ممبئی،2؍جنوری (یواین آئی)مہاراشٹرمیں بڑے پیمانے پر تشدد پھوٹ پڑنے کے بعد وزیراعلیٰ دیویندر فڈنویس نے صورتحال پر سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے جہاں بمبئی ہائی کورٹ کے کسی جج سے واقعات کی چھان بین کرانے اورناندیڑ کے ہلاک ہوئے 28سالہ راہل فتانگلے کے اہل خانہ کو10لاکھ روپے معاوضہ دینے کا اعلان کیا ہے۔وہیں نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) لیڈر اور سابق وزیراعلیٰ شردپوار نے حکومت اور انتظامیہ کی لاپروائی کوذمہ دار ٹھہراتے ہوئے عوام سے امن وضبط کی اپیل کی ہے ۔پونے کے کورے گاؤں بھیما میں تشدد کے دوران ایک شخص کی موت کے بعدصورتحال سنگین ہو گئی ۔2ذاتوں کے درمیان لڑائی میں شہری بے حال بتائے جاتے ہیں۔ ریل روکو احتجاج کے دورران لوکل ٹرین خدمات متاثرہوئیں۔عروس البلاد میں افراتفری کے ماحول میں افواہوں کا بازارگرم ہے ۔200سال قبل 1818میں یکم جنوری کے موقع پر انگریزوں اور پیشوا باجی راؤ سوم کے درمیان کورے گاؤں بھیما میں جنگ ہوئی تھی جس میں انگریزوں کو جیت اور پیشواکی فوج کو شکست ہوئی۔اس جیت کے بعد فرنگیوں نے ایک یادگار تعمیرکرائی،دراصل ایسٹ انڈیا کمپنی کی فوج میں دلتوں کی اکثریت تھی اور امسال200سال مکمل ہونے پرساڑھے تین لاکھ افراد یہاں جمع ہوئے اور جشن منایا گیا جوکہ ہرسال منا یا جاتا ہے ۔ دوسرے فرقے کو جشن منائے جانے پر اعتراض ہے ،جس کے نتیجے میں گزشتہ روز دونوں فرقوں میں تصادم کے بعد تشدد پھوٹ پڑا اور ایک نوجوان کی ہلاکت کے بعد سنگین صورتحال پیدا ہوگئی ۔ مذکورہ تقریب کا انعقاد مرکزی وزیر رام داس اٹھاولے نے کیا تھا ،جس میں ریاستی وزیر گریش باپٹ ،بھارتیہ جنتاپارٹی (بی جے پی)رکن پارلیمان امر سبتے ،ڈپٹی میئر سدھارتھ ڈنڈے اور دیگر لیڈران شامل ہوئے ،لیکن تشدد کے بعد حالات خراب ہوگئے اور پوری ریاست لپیٹ میں آگئی ۔شردپوار نے سوال کیا کہ ایک اندازے کے مطابق بڑی تعداد میں لوگوں کے جمع ہونے کا اندیشہ تھا لیکن انتظامیہ نے لاپروائی سے کام لیا ۔ اس طرح افواہوں کی وجہ سے تشددپھوٹ پڑا ،جس نے ریاست کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ۔فڈنویس نے بہر حال حکومت کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کا معقول بندوبست تھا اور پورے علاقے میں حفاظتی دستوں کی6 کمپنیاں تعینات کی گئی تھیں۔اس مرتبہ200سال مکمل ہونے پر ان کی تعداد3.5لاکھ سے تجاوز کرگئی تھی ۔رات میں پولیس نے بسوں میں پھنسے مسافروں کو ان کی منزل تک پہنچانے میں مددکی ۔فڈنویس نے تشدد کی عدالتی تحقیقات اور تشددمیں نوجوان کی ہلاکت کی سی آئی ڈی سے تحقیقات کاآج اعلان کیا اور اپیل کی کہ شہری افواہوں پر توجہ نہ دیں اور امن وضبط کو نافذ کرنے میں مکمل تعاون کریں۔جبکہ دلت رہنماؤں میں چہارشنبہ کو مہاراشٹر بند کی تیاری کرلی ہے ۔دریں اثناء آج یہاں شمال مشرقی علاقہ چمبور میں احتجاجیوں نے چمبور اسٹیشن میں زبردستی داخل ہوکر لوکل ٹرینوں کو روک دیا اور نعرے بازی کی ۔ جبکہ پونے ،ناسک ،احمد نگر پونے کے ہڑپسر ،پھر سنگی اور دیگر علاقوں میں تشدد پھوٹ پڑا ہے اور نیم فوجی دستوں کو الرٹ کردیا گیا اور ریاستی بس سرویس (ایس ٹی ) کومتعدد روٹس پر بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے ۔جس کی وجہ سے سنٹرل ریلوے کی ہاربر لائن بُری طرح سے متاثر ہوئی اورچمبور اور ملنڈ علاقوں میں آٹو رکشا روکنے کی کوشش کی گئی جبکہ سائن علاقہ میں کشیدگی پائی جاتی ہے ۔کئی جگہ خصوصی ٹرینیں چلائی گئی ہیں۔مظاہرین اسٹیشن میں داخل ہوئے اور پٹریوں پر بیٹھ کر ٹرینیں روک دیں ،پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے انہیں پٹریوں پر سے ہٹایا اور ٹرین سروس تقریباً25منٹ بعد شروع کردی گئی۔آرپی آئی کے ورکروں نے چمبور ناکہ ،ملند ،امرمحل اور دیگر علاقوں میں سڑکوں پردھرنا دیا اور بیسٹ کی بسوں کو نشانہ بنایا ہے ۔ناسک اور دیولالی میں بھی احتجاج کرنے کی خبریں مل رہی ہیں جبکہ مظاہرین نے وزیراعلیٰ کے خلاف نعرے بازی کی۔’’تازہ ترین اطلاع کے مطابق پونے اور احمدنگرکے درمیان سرکاری بسوں کی خدمات مکمل طورپر بند کردی گئی ہیں۔فڈنویس نے اپنے ردعمل میں الزام عائد کیا ہے کہ یہ ریاستی حکومت کو بدنام کرنے کی سازش ہے۔بی جے پی نے اس کے لئے کانگریس پر شک کیا ہے ۔اس نے گجرات کے جگنیش میوانی اور دہلی کے نوجوان قائد عمرخالد پر مہاراشٹرا میں فساد بھڑکانے کا الزام لگایا ہے۔